Showing posts with label خیال و فکر. Show all posts
Showing posts with label خیال و فکر. Show all posts

Monday, May 30, 2011

امیر اور غریب



تخلیق کائنات کا ایک اہم جز قدرت نے یہ رکھا کہ ساری خلقت کو ایک دوسرے سے زنجیرکی طرح جوڑا اور ایک دوسرے کا محتاج بنایا۔ نباتات جمادات کے محتاج، حیوان نباتات کے اور انسان حیوانات کے۔ اسی طرح چاند سورج تارے سیارے کے سسٹم کو آپس میں کشش کے ذریعے جوڑ دیا اور ان کا تعلق اتنا مضبوط رکھا کہ ایک کی کمی دوسرے پر ناقابل تلافی حد تک اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اگر اس سسٹم میں ایک جز کو نقصان پہنچتا ہے توسارے سسٹم پر اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔



اگر غور کیا جائے تو یہ اجزائے خلقت ایک دوسرے کی بقا کے لئے لازم و ملزوم ہیں یعنی ایک دوسرے کی زندگی کی ذمہ داری لئے ہوئے ہے اور ایک دوسرے کو مکمل بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کو بھی اللہ تعالی نے ایک دوسرے کی ذمہ داری سونپ کر آپس میں ایک زنجیر کی طرح جوڑا۔ ہر انسان دوسرے کا کسی نہ کسی طرح محتاج ہے۔ جیسے



مریض ڈاکٹر کا، جاہل عالم کا، شاگرد استاد کا، بچہ ماں کا، یہاں تک کہ ایک فیکٹری کا مالک بھی اپنے کارکنوں کا محتاج ہے۔ غرض مخلوق خدا ایک دوسرے پر اپنی روزی اور بقا کی وجہ سے محتاج ہے۔ یہ آپس میں اسی زنجیر کی طرح جڑے ہیں جیسے دیگر تخیلق خداوندی۔ اگر زنجیر کی ایک کڑی ٹوٹ جائے تو سارے اجزاء بکھر جائیں۔


اب یہاں ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ ہر تخلیق کو اس کا مرکزبھی دیا۔ جیسے چاند کا مرکز زمین، سیاروں کا مرکز سورج، ایک گھر کا مرکز ماں، ایک مدرسے کا مرکز اس کا استاد اور ایک معاشرے کا مرکز اس کے رؤسا اور معززین۔ یہ سب اپنے اطراف کی ذمہ داری لئے ہوئے ہیں۔


بس اسی طرح امیر اورغریب بھی اسی محورو مرکزسے جڑے ہیں۔ جس طرح سورج کا کام روشنی دینا ہے۔ اللہ تعالی نے سورج کو وسیلہ بنایا ہے زمین کی بقا کا۔ اسی طرح امیر کو وسیلہ بنایا ہے غریب کی بقا کا۔ انسان کو اشرف المخلوقات اس لئے بنایا کہ اسے ایک عدد جذبوں سے بھرا دل، سوچتا ہوا ذہن اور زندہ ضمیر بھی دیا۔ اب اگر اسی دل اور ذہن کے ساتھ اسے دولت کے شرف سے بھی نوازا تو اس کا مطلب ہے کہ اسے سورج کی سی ذمہ داری بھی دی کہ وہ اس زندہ ضمیر کے ساتھ خدا کی غریب مخلوق کی بقا کا وسیلہ بن جائے اور اس پر خدا باری تعالی نے جو ذمہ داری سونپی ہے وہ پوری کرے۔



پوچھنے والے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ واحدہ لاشریک تو کن فیکون بھی ہے تو کیوں غریب کو خود نہیں نوازتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی کو سورج بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ سب مخلوق کو اپنے اپنے حصے کی حرارت اور روشنی فراہم کردیتا۔ مگر اس نے سورج کو زندگی کی بقا کا وسیلہ بنایا۔ اس پر یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنی حرارت اور روشنی مخلوق کو بخشے۔ زندگی کی امین یہ روشنی اور حرارت ساری سورج کو ہی خدا نے بخش دی تاکہ وہ اس کو ہر طرف پہنچائے۔ اسی کی حرارت و روشنی کہیں زیادہ تو کہیں کم پڑھتی ہے اور سب اپنی اپنی ضرورت کے مطابق اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ اسی طرح دولتمندوں کو بھی اللہ تعالی نے غریبوں کی زندگی کا وسیلہ بنایا ہے۔ اسے زیادہ دولت اس لئے نہیں دی کہ وہ اس کا حق دار ہے بلکہ اس لئے دی کہ اب وہ غریبوں کی بقا کا امین ہے۔


اگر امیر اپنی دولت حقدار غریب کی مدد کے بجائے بے جا عیش وعشرت اور مال جمع کرنے میں لگا دے تو معاشرے کا توازن بگڑ جائے اسی طرح جس طرح سورج اپنی ساری توانائی اپنے تک ہی محدود رکھےاور اس توانائی کی کثرت سے اس کا حجم اتنا بڑھے کہ ایک دن پھٹ پڑے اور بقا کا امین ہی فنا کا باعث بن جائے۔


یہ عدم توازن ہم اپنے معاشرے میں دیکھ سکتے ہیں جہاں غریب ایک ایک وقت کی روٹی کو ترستا ہے مگر جہاں کے امیر کے گھروں کے کوڑے دان رنگ برنگے پھینکے ہوئے کھانوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ جہاں بھوک وغربت سے تنگ آکر ایک غریب رکشہ ڈرائیور اپنے خاندان سمیت اجتماعی خودکشی کرلے مگر اسی سوسائٹی کے رؤساء ساری ساری رات شراب و کباب کی محفلیں سجائے بیٹھے ہوں۔ یہ مال و دولت جن کو چھپا کر یا اپنے تک محدود رکھ کر وہ یہ سمجھتے ہیں یہ ان کی اپنی بقا کی ضمانت ہے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ معاشرے کو تو نگل لے گا مگر آخر میں وہ خود بھی اس کا لقمہ بن جائیںگے۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


Sunday, May 29, 2011

بے زباں نہیں ہم



کہتے ہیں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن اگر کسی بھلے مانس سے پوچھا جائے تو کہیں گے کہ دیواروں کے کان نہیں بلکہ زبان ہوتی ہے وہ بولتی ہیں ان سے، جو سننا چاہے، وہ دکھاتی ہیں ان کو، جو دیکھنا چاہے۔ نہ صرف اپنی داستان سناتی ہیں بلکہ اپنے اطراف کی کہانیاں بھی کہتی ہیں۔

انسان کے جسم کی سب سے نمایاں چیز اس کا چہرہ ہوتا ہے اور اس چہرے کے اندر چھپی اس کی زبان۔ جب وہ زبان کھولتا ہے تب اس کی اصلیت سامنے آتی ہے۔ زبان ایسی چیز ہے جو چہرے کا اہم حصہ ہونے کے باوجود چہرے پر واضح موجود نہیں بلکہ لب و دہن کے پردے میں محفوظ ہے۔ اسی طرح دیواریں بھی ایک گلی، محلے اور شہر کا چہرہ ہوتی ہیں اور ان کی زبان سپیدی اور رنگ و روغن کے پردے کے پیچھے محفوظ۔ ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھار حالات کے ہاتھوں ان کو برہنہ بھی ہونا پڑتا ہے۔

ہر علاقے کی سب سے زیادہ آگہی اس کی دیواروں کو ہوتی ہے نہ صرف انہیں اپنے علاقے کی زبانوں پر عبور ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے علاقے اور اس کی سوچ کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ کہیں صاف ستھری سوچ تو کہیں گندی غلیظ باتیں۔ کہیں کسی کو راستہ دکھاتی ہیں تو کہیں راستے سے بھٹکاتی ہیں۔ کہیں شر اور فساد کے لئے ورغلاتی ہے تو کہیں اسلام اور انسانیت کا پیغام دیتی نظر آتی ہیں۔ کہیں کسی کے معاشی، ازدواجی اور تعلیمی مسئلوں کا حل بتاتی ہیں۔ تو کہیں اندھے اعتقاد والوں کو سنہرا مستقبل اور راتوں رات امیر بننے کے سپنے دکھاتی ہیں۔

ان دیواروں کے بھی اپنے اپنے دکھ ہوتے ہیں کبھی خاموشی حد سے سواء ہو جاتی ہے اور اندر کا حال چھپانا مشکل ہوجاتا ہے تب اپنا دکھ باہر لاتی ہیں۔ وہ دکھ اس کی شفاف سپیدی پر داغ لگاتے ہیں اسے آہستہ آہستہ غلیظ کرتے ہیں کبھی یہ داغ کسی راز کا پردہ چاک کرتے ہیں تو کبھی کسی کی اصلیت کو اجاگر کرتے ہیں کبھی ظلم کے خلاف صداء احتجاج بنتے ہیں تو کبھی مظلوم کے ساتھ یکجہتی کا دم بھرتے ہیں-

دیواروں کی بھی قسمیں ہوتی ہیں۔ شرفاء کی دیواریں اپنی ساری غلاظتیں رنگوں کی گہری تہوں میں چھپائے صاف ستھری اور غرور و تمکنت سے اٹھی ہوتی ہیں ان کی زبانیں ان کے مالکوں کی طرح خاموش ہوتی ہیں۔ مگر ان کا ذرہ ذرہ زبان بن کر بول رہا ہوتا ہے کہ وہ ان سے زیادہ بااختیار دیواروں کی مطیع ہیں اور اگر زبان کھولی تو ڈھا دی جائے گی۔

غریبوں کی دیواریں بہت بہادر اور مضبوط ہوتی ہیں یہ ان کا بہت بڑا سہارا ہوتی ہیں۔ ان کی دیواریں سچ بولتی ہیں۔ اپنی غربت اور کم مائیگی پر شرمندہ نہیں ہوتیں بلکہ اپنی تمام تر بدصورتیوں کے ساتھ بھی سر اٹھا کر کھڑی ہوتی ہیں۔ وہ وہاں کے حاکموں کے منہ پر طمانچہ ہوتی ہیں اسی لئے وہاں کے شرفاء اورکرتا دھرتا اس راستے سے ہی اجتناب برتتے ہیں۔

مظلوم کو چونکہ انصاف میسر تو ایک طرف وہ انصاف کے لئے کھلے عام آواز بھی نہیں اٹھا سکتے ایسے میں یہ دیواریں ان کی آوازیں بن جاتی ہیں۔ کبھی ان دیواروں کے شور سے تنگ آکر اسے ڈھادیا جاتا ہے تو کبھی اس کے داغوں کو دھو کر نئے رنگوں سے سجا دیا جاتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ کبھی جبر ان پر حاوی نہ ہوسکا اور ایک دن انہیں دیواروں نے تختے الٹ دیئے۔

کچھ لوٹا دیواریں ہوتی ہیں۔ جو بضرورت وقت اپنا رنگ ڈھنگ بدلتی رہتی ہیں۔ یہ دیواریں حاکم وقت اور ان کی پارٹیوں کی غلامی میں ہوتی ہیں اور ان کی خیر اسی میں ہوتی ہے کہ جو صاحب اقتدار ہے اس کا دم بھرتی رہیں۔ دوسری طرف مخالفون کی بھی اپنی دیواریں ہوتی ہیں جو حکومتوں پر کیچڑ اچھالنے کے کام کرتی ہیں۔

سب سے زیادہ جمہوریت بھی انہیں دیواروں میں ہوتی ہے۔ انہیں آزادی فکر و خیالات فریڈم آف سپیچ بھی حاصل ہوتی ہے۔ وہ جھوٹ بولنے سے نہیں ڈرتی۔ وہ ہر قسم کے طبقوں اور مزاجوں کی عکاسی کرتی ہے۔ سب سے بڑی بات مستقل مزاج ہوتی ہیں۔ اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو کسی بھی ترقی پذیر ملک میں جمہوریت کی داغ بیل یہ ہی ڈال سکتی ہیں لہذا صحیح معنوں میں انہیں ہی ملک کی سربراہی ملنی چاہیئے۔

کچھ دیواریں کسی بدنصیب قیدی کے ساتھ بند، اس کی تنہائیوں میں غم گساری کرتی ہیں۔ کسی رازدار دوست کی طرح اتنے قریب کہ وہ اس کے سارے غم اور دکھ درد اپنے دامن میں سمو لیتی ہے۔ اس بدنصیب کی زندگی کے لمحہ بہ لمحہ بجھتے چراغ اور قید کی صعوبتوں کی وہ واحد گواہ ہوتی ہے۔ لیکن وہ خاموش گواہ پھر بھی نہیں ہوتیں اس کی پیشانی پر ایک ایک لمحے کی داستان رقم ہوتی ہے۔ پھرایک وقت آتا ہے جب قیدی زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے اور قید خانے کا دروازہ کھلتا ہے۔ جب اس کی زبان برہنہ ہوتی ہے وہ چیخ چیخ کراپنے قیدی کی داستان سناتی ہے۔





عمر دراز مانگ کے لائے تھے چاردن

دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

دن زندگی کے ختم ہوئے، شام ہوگئی

پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کنج مزار میں



Friday, September 3, 2010

یہ کیڑیاں اتنی بیوقوف کیوں ہوتی ہیں

آج صبح نماز کے بعد میں چائے بنا رہی تھی جب میری نظر ایک بار پھر کچن کی کھڑکی کے کونے پر کیڑیوں کی ایک جماعت پر پڑی۔ یہ کیڑیاں فوج کی کسی بٹیلین طرح کھڑکی کے کونے سے نکل کرآگے بڑھتی ہوئی کچن سنک کے نیچے کہیں گم ہورہی تھی۔ یہ سین میرے لئے کوئی نیا نہیں تھا۔ جب سے بارش کا موسم شروع ہوا ہے ان کیڑیوں نے بھی اپنے لئے محفوظ پناہگاہ اور بارش سے بچنے کا انتطام کرلیا ہے۔



روزانہ یہ ننھی مخلوق بڑے منظم طریقے سے ایک ہی لائن میں ایک ہی سپیڈ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جارہی ہوتی ہیں۔ مجال ہے جو کوئی لائن چھوڑ کر یہاں سے وہاں ہوجائے ایسا لگتا ہے کہ ان میں کوئی سوچی سمجھی انڈرسٹینڈنگ ہے کہ اس طریقے سے، ایسے ہی، اس جگہ سے اس جگہ اور ایک ہی سمت پر سفر کرنا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو جائے کے مخالف سمت سے ان کی چند سکھیاں آرہی ہوں تو وہ بھی باقاعدہ لائن کی شکل میں آتی ہیں اور ہر ایک سے باقاعدہ مصافحہ اور حال احوال دریافت ہوتا ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے اور کسی بھی دیکھنے والے کو زیادہ اعتراض نہیں ہوگا کہ اس کے گھر میں بغیر کرائے کے کئی ہزار کیڑیاں بھی رہائش پذیر ہیں۔ مگر جب کبھی کبھاریہ جماعت مل کر اپنے سے کئی گنا بڑے کاکروچ کو اٹھائے لے جانے میں مشغول ہوتی ہیں، جسے دیکھ کر احرام مصر بنانے والے وہ مزدور یاد آجاتے ہیں جو کئی سو کلو وزنی پتھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے اور کس طرح کی محنت و مشقت کرتے تھے۔


اور بات جب یہاں تک پہنچ جائے کہ تھوڑی دیر کو کوئی پلیٹ وغیرہ سنک میں بغیر دھلے رہ جائے اور وہاں بھی یہ خواتین غلبہ کئے بیٹھی ہوں تو بڑی کوفت ہوتی ہے۔ ویسے میں انتہا پسند ہوں نا ایکسٹریمسٹ مگر مجھے بھی تو یہ بتانا ہوتا ہے کہ بھئی گھر کے مالک آپ نہیں، میں ہوں اور پاپولیشن کنٹرول بھی کوئی چیز ہوتی ہے لہذا مجبوراً اسپرے اٹھا کر کھڑکی کے کونے سے لے کر کچن کی سنک تک ایک فوراہ ان پر برسانا پڑتا ہے۔ اسپرے کے بعد وہ وہیں جم جاتی ہیں اور پیچھے آنے والیاں بھاگ دوڑ کر یہاں وہاں پناہ لیتی ہیں۔ اس اثناء میں میری چائے ابلنا شروع ہوتی ہے اور میں اس طرف متوجہ ہوجاتی ہوں۔ پھر دوسرے دن وہی تماشہ۔


اب یہاں تعجب کی بات یہ نہیں کہ کئی سو مارگرانے کے بعد دوسرے ہی دن اسی جگہ اسی طرح لائن بنائے ہوئے پہلے سے بھی بڑی تعداد میں وہ پھر موجود ہوتی ہیں بلکہ تعجب ان کی determination پر ہوتا ہے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی وقت یہاں حملہ ہوگا اور ہم میں کئی سو کو ڈھیر ہوجانا ہے پھر بھی اس بات کی پرواہ کئے بغیر موجود ہوتی ہیں، اور اپنا ٹھکانہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتیں۔


کیا یہ اتنی بیوقوف ہوتی ہیں کہ خطرہ جان کر بھی اس میں کود جائیں یا اس میں کوئی مسلک چھپا ہے? جبکہ عموماًدوسرے کیڑے اور جانور اس جگہ سے بھاگتے ہیں جہاں خطرہ ہوتا ہے۔


کیا ان کیڑیوں کے اس فعل میں ہمارے لئے ایک سبق پوشیدہ ہے?

Wednesday, June 23, 2010

ایک سوچ!


کبھی سوچا ہے کہ ایک سادہ سا بلب 40 یا 60 واٹس کا جو روزانہ جلتا ہے اور ایک دن سوئچ آن کیا اور جھماکہ اور بس ختم، لیکن یہ نہپیں معلوم ہوتا کہ اس بلب نے اس وقت جل جانا ہے ۔ یہ زندگی بھی اسی طرح ہے کب جانے بلب کی طرح گل ہوجائے اور سب کچھ دھرا کا دھرا رہ جائے۔
زندگی ہمیں اس طرح سے اپنے اندر الجھائے ہوئے ہے کہ ہم کبھی رک کر، کسی چیز پر غور کئے بغیر اپنی سمتوں کی طرف رواں دواں ہیں اور ہمارا سفر جاری و ساری ہے ایسے میں کبھی ایک دھچکا لگتا ہے اور سویا ہوا ذہن جھٹکے سے بیدار ہوجاتا ہے اور پھر زندگی کی اس بے ثباتی پر سوال جواب شروع ہوجاتے ہیں۔ دل وذہن میں جنگ ہوتی ہے۔ اور اگر دھچکا بڑا لگا ہوتو مستقل مزاج کے لئےزندگی کا رخ بدل جاتا ہے ورنہ عارضی طور پر ۔اور پھر رنگینیاں پھر اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔
کچھ دن پہلے میرے ابو کے ایک پرانے بزنس اسسٹنٹ کا اچانک انتقال ہوگیا۔ ابو کو اس کے انتقال کی اطلاع بروقت نہ مل سکی تھی کسی تیسرے شخص نے آکر یہ افسوسناک خبر دی۔ ہم سب اس کی جواں مرگی پر دنگ رہ گئے تھے۔ کیونکہ اس شخص کی زندگی ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھی۔
اس کا نام سعید تھا۔ وہ کرسچن پریسبائٹرین فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔ بہت غربت اور افلاک میں پلا بڑھا۔ اور پھر اس طبقے کی برائیوں کا شکار ہوا۔ تھوڑی بہت ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تھوڑا بڑا ہوا تو پور پور تک برائی اور بدکاری میں ڈوب چکا تھا۔ اس کے والد کے اصرار پر ابو نے اسے جاب دی۔ مگر اس وقت ابو نہیں جانتے تھے کہ وہ کس قسم کا بندہ ہے۔ بہرحال جب اس نے کام شروع کیا اس وقت ابو کا ایک اور سینئر اسسٹنٹ بھی تھا اور وہ اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔ اس کا نام محمد علی ہے۔ وہ الحمدللہ مسلمان ہے اور صرف نام کا ہی نہیں بلکہ اپنے ایک ایک فعل سے بھی مسلمان ہے۔
محمد کی کمپنی میں رہ کر آہستہ آہستہ سعید بدلنے لگا۔ اپنی پرانی عادتوں کو چھوڑا، شام کی آوارہ گردیوں کو چھوڑا اور چرچ جانا شروع کیا اور اپنے گناہوں سے توبہ کی۔ سب سے پہلے محمد کے کہنے پر سعید نے اپنی محنت کی کمائی کو شراب پر لٹانا چھوڑا۔ ایک کے بعد ایک اس کی شخصیت، رہن سہن، بول چال سب تبدیل ہوا اور چند سالوں ہی میں وہ ایک پرفیکٹ جنٹل مین کی صورت سامنے آیا۔ پھر اس نے اپنے ہی ہم مذہب لڑکی سے شادی کر لی۔
جب ابو اس کی شادی پر گئے تھے تو تحفہ دینے کے بعد اس کی بیوی سے کہا کہ سعید پر اتنا بوجھ مت ڈالنا کہ وہ پھر بھٹک جائے۔ مگر اس کی بیوی اس سے زیادہ ثابت قدم تھی۔ خدا نے اس کو دو پیارے پیارے بچے دیئے۔ اس دوران اس نے ہمارے ساتھ کام چھوڑ کر اپنے چرچ کے آس پاس ایک چھوٹی سی شاپ کھولی اور اپنے چرچ سے ہی قرض لے کر اپنا چھوٹا سا بزنس شروع کیا۔ بہت محنت اور ذمہ داری سے کام کیا۔ اپنی کمیونٹی میں بھی وہ کافی مشہور ہوگیا تھا کیونکہ کام کے بعد وہ شام کو چرچ میں والنٹری امور بجا لاتا تھا۔
جب آخری دفعہ ابو کی اس سے ملاقات ہوئی تب ان کے مطابق وہ ایک بلکل بدلا ہوا آدمی تھا۔ اپنی زندگی سے مطمئن اور محنت و جدوجہد پر یقین رکھنے والا۔ ابو نے کہا یہ بندہ یقیناً بہت آگے جائے گا۔ ۔ ۔ خیر۔ ۔ آگے تو سب نے ہی جانا ہے۔ لیکن ایسے اچانک، بیچ راستے میں? جب کہ اب تو منزل بھی قریب تھی۔ گمراہی سے بھی نکل چکا تھا۔ محمد نے تو صرف دھکا ہی لگایا تھا اس کے بعد تو اس کی خود کی ہی محنت تھی۔ تیئس چوبیس سال تک ہر قسم کے چھوٹے بڑے گناہوں میں ملوث رہنے کے بعد جب روشنی ملی تو صرف پانچ چھے سال۔ ۔ اور بس زندگی تمام۔
سعید کے مرنے کے بعد یہ گول دائرے کا چکر پھر وہیں پر آرکا جہاں سے شروع ہوا تھا یعنی سعید کے بچے اسی جگہ پر ہیں جہاں سعید اپنے بچپن میں تھا اور اسی طرح کی غربت اور افلاک کا شکار ہیں۔ میری اس کے بچوں کے لئے صرف یہ دعا ہے کہ سعید کے چرچ والے اس کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے بچوں کی مدد کرے اور اس کی تعلیم و پرورش کی ذمہ داری اٹھائیں تاکہ ان کا بچپن سعید کے بچپن کی طرح نہ گزرے بلکہ سعید کی زندگی کے آخری چند سالوں جیسا خوش اور مطمئن گز
رے۔